خوف و ہراس
قسم کلام: اسم کیفیت
معنی
١ - ڈر اور اندیشہ۔ "نومبر ٦٨ سے شروع ہونے والی دہشت گردیاں اور خوف و ہراس، مسلسل جاری تھے۔" ( ١٩٨٢ء، میرے لوگ زندہ رہیں گے، ٢١٦ )
اشتقاق
عربی زبان سے مشتق اسم 'خوف' کے ساتھ 'و' بطور حرف عطف لگا کر فارسی سے ماخوذ اسم 'ہراس' لگانے سے مرکب 'خوف و ہراس' بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٩٨٢ء کو "میرے لوگ زندہ رہیں گے" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - ڈر اور اندیشہ۔ "نومبر ٦٨ سے شروع ہونے والی دہشت گردیاں اور خوف و ہراس، مسلسل جاری تھے۔" ( ١٩٨٢ء، میرے لوگ زندہ رہیں گے، ٢١٦ )
جنس: مذکر